مایوسی کا ایک خط
ذکی نقوی

Thailand-drought-002

رفیقہء حیات،

 

تم مجھ سے اکثر پوچھتی ہو کہ میں شہر میں کیا کرتا ہوں اور میں یہ سوال ٹال جاتا ہوں کہ تمہیں شہروں کے بکھیڑوں سے کام؟؟۔ یہ ٹھیک ہی ہے کہ تم ایک نیم دیہاتن رفیقہء حیات ہو اور اس حوالے سے ذیادہ سوالات نہیں کرتیں کہ تمہارا جیون ساتھی شہر میں کس نوعیت کی مزدوری کر کے تمہارے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لیکن آج میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کرتا ہوں۔ دیکھو، ہمارے ملک میں (اور تیسری دُنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں) بنیادی انسانی حقوق ریاست اور حکومت کا سردرد نہیں ہوتے۔ آئین میں تو کہنے کو کہہ دیا جاتا ہے کہ شہریوں کی ذاتی آزادی، عزت نفس، علم و آگہی، تعلیم اور صحت کی ضمانت حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا (اور اگر ہوتا ہے تو برائے نام ہوتا ہے)۔ ایسے میں امیر ممالک نے اپنے سرمائے سے، دُنیا کو جینے کیلئے ایک اچھی جگہ بنانے کی غرض سے تمام غریب ممالک میں پڑھے لکھے، مخیر لوگوں کو مالی امداد دینا شروع کی تاکہ وہ نجی طور پر ریاست کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کاکام کرسکیں۔ یہ جو تم این۔ جی۔ او کا تذکرہ ٹیلی ویژن پہ سُنتی ہو، یہ اسی کام کے ادارے ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تیسری دُنیا میں کئی نیک لوگوں نے این۔ جی۔ اوز کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی بھلائی کا سامان کیا ہے اور کئی چالاک لوگوں نے اسے کاروبار بنا کر اپنی تجوریاں بھری ہیں۔۔۔
میں بھی ایک ایسے ہی ادارے میں کام کرتا ہوں۔ میں ایسے کئی لوگوں کے گھروں میں جا کر اُن سے ملا ہوں جن پر صرف غریب اور شریف لیکن بے بس لوگ ہونے کی پاداش میں پولیس اور وڈیروں کے قہر کا ڈنڈا برسا ہے۔ میں شہروں میں جاکر اُن سے ملا ہوں، اُن کی دُکانوں پہ، اُن کے گھروں میں ، اُن کی کام کرنے کی جگہوں پہ؛ جو کبھی کوئی کارخانہ ہوتا ہے تو کبھی سڑک کے کنارے بچھی بساط۔۔۔ میں اُن کا درد سُننے دیہاتوں میں گیا، کھیتوں کھلیانوں میں، پگڈنڈیوں، چوراہوں پر اُن کے ساتھ بیٹھ گیا اور اُن کے دُکھ سُنے۔ اس کے بعد میں اپنے ادارے کے وکیلوں کو یہ باتیں جاکر بتاتا ہوں جو ان لوگوں کیلئے انصاف مانگنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ مجھے بتایا جاتا تھا کہ جج، سیاستدان، پولیس کے بڑے افسر اور جیلر، سب لوگ ان وکیلوں کی بات سُنتے ہیں، وہ ان کی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ مُجھے خوشی ہوتی تھی کہ آج میں اپنے جیسے کتنے ہی عام آدمیوں کے لئے خوشی نہیں تو کم از کم خوشی کی اُمید کا پیغام تو لے کے جاتا ہوں ناں!!
پھر مُجھے سزائے موت کے قیدیوں کی احوال پُرسی کیلئے بھیجا جانے لگا۔ میں پنجاب کی کچھ بڑی جیلوں میں گیا، سزائے موت کے کئی قیدیوں سے ملا۔
تمہیں تو نہیں پتہ ناں کہ وہاں، جیلخانوں کی موٹی موٹی دیواروں کے اندر جو دُنیا آباد ہے، وہ کیسی ہے۔ سینکڑوں، ہزاروں، مجرم، گنہگار، بے گناہ، غنڈے اور غریب وہاں پڑے ہیں۔ لیکن جو سزائے موت کے زندانوں میں ہیں – کوئی آٹھ ہزار قیدی ملک بھر سے- جو وہاں اپنی موت یا معجزاتی آزادی کے انتظار میں عُمر قیدیں کاٹ چُکے ہیں، میں اُن سے ملا۔ وہ مُجھے کسی اوتار کی طرح ملتے، مُجھ سے اُمیدیں وابستہ کرتے اور پھر دعاوں کے ساتھ رخصت کرتے۔ وکیلوں کی سی میری سیاہ ٹائی ان کیلئے یدِ بیضا سے کم نہ تھی۔ میں اُن سے ملتا رہا، اُن کے قصے لکھتا رہا۔ میں جیلخانوں کے باہر ملاقات کے انتظار میں بیٹھے سیکڑوں ضعیف، مفلوک الحال اور بے حد غریب والدین سے ملا، اُن کے ہجر اور تنہائی کے قصے، زندہ بیٹوں کے مرثیے اُن سے سُنے تو یوں لگا کہ اُن کے غموں کے لامتناہی سلسلے سے کچھ کڑیاں اپنے گلے کا ھار بنا لایا ہوں ، تولہ بھر یا ماشہ سہی، اُن کا بوجھ بانٹ آیا ہوں۔مجرموں کی ماوں پہ کوئی کیوں ترس کھائے گا لیکن مجھے کسی سابق جج کی بتائی ایک بات یاد آتی ہے کہ ان میں کئی سو لوگ بالیقین ایسے ہیں جنہیں سزائے موت سُنانا نہ صرف ضروری نہیں تھا بلکہ عدل و انصاف بھی نہ تھا۔ جج نے اپنے تجربے کی روشنی میں بتا یاتھا۔ اور مجھے اپنے مقصد پہ یقین بھی بہت ہے۔۔۔
لیکن آج نجانے کیوں، مجھے ایسا لگا کہ میں یہاں نہیں ٹھہر سکوں گا۔ آج کا دن بہت کڑا گُزرا۔ آج میں ایک قیدی سے ملنے گیا تھا۔
میں نے پہلے اسکی جوانی کی تصویر دیکھ رکھی تھی، جب وہ قیدی ہوا تھا، تب کی۔ اسے موت سزا سُنائی گئی تھی۔ وہ ایک لمبی قید اپنی موت کے انتظار میں کاٹ چکا ہے اور اب ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ میں سزائے موت کے اُن زندانوں کی طرف گیا جہاں ذھنی مریضوں کو قید کیا جاتا ہے۔ یہ جگہیں لوگوں سے بھری پڑی ہیں، پھر بھی کتنی ویران ہیں۔ پتہ ہے، یہاں کوئی خوش نوا پرندہ بھی نہیں چہچہاتا۔ یہاں ایک ایسی آسیب ذدہ خاموشی چھائی تھی کہ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔ وہ مجھ سے ملا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب احمقانہ سی مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں گہری، کئی سالوں سے ڈیرہ جمائے بیٹھی خاموش اُداسی تھی۔ اُس نے بولنا شروع کیا تو اسکی کوئی بات ایسی نہ تھی کہ جو لکھی جاتی اور جس کے شذرے لکھ کر داخلِ دفتر کئے جاتے۔ وہ اندگی اور موت کی اُمید اور نااُمیدی کے درمیان چکر کھاتا ہوا ایک عمر قید کے برابر مُدت کی قید کاٹ کر اب پاگل ہو چکا ہے۔ اسے پھانسی پہ چڑھا کر انصاف کا کون سا تقاضہ پورا ہو گا، مجھے نہیں معلوم۔ وہ مجھ سے باتیں کئے جا رہا تھا، بے سروپا باتیں، اور میں قید خانے کی چوکھٹ کا سہارا لے کر کھڑا خلاوں میں گھورے جارہا تھا۔ اس کے علاوہ فضاء پر گہری خاموشی تھی۔ مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ دُنیا میں جہنم کا سا عذاب دینے کی جو اھلیت انسان نے حاصل کر لی ہے، ہمارے وطن میں سزائے موت سے بڑی سزا فقط سزائے موت کا قیدی ہونا ہے۔
اسی دوران ساتھ کے ایک اور پاگل قیدی کے رو رو کر پکارنے کی آواز آئی “اَگ لا دیوے کوئی ایہناں جیل خانیاں نوں، سارے جیل خانیاں نوں!!!” اس آواز نے مجھے ھلا کے رکھ دیا۔ میں نے انسان کی بے بسی اور بے چارگی کی انتہا زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ مجھے وحشت سی ہونے لگی۔ اسی لمحے ایک تیسرا قیدی قریب آیا۔ مجھے ملتے ہی کہنے لگا “بستی ذیلدار سنگھ دیکھی ہے؟؟؟ میں وہاں کا رہنے والا ہوں!” میں نے کچھ نہیں کہا۔ “میں نے اپنی بیوی ماردی تھی۔۔۔ بے چاری۔۔۔ صاحب! آپ بستی ذیلدار سنگھ جانا تو وہاں کہنا کہ چودہ سال سے کوئی ملنے نہیں آیا مُجھے۔۔۔” مُسلسل ہنستے ہوئے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اُس نے کہا تو میں نے اسے جھوٹ موٹ کی تسلی دی۔ اس لمحے اپنا آپ بُرا لگا۔ “صاحب، مُجھے دلیپ کمار کہتے ہیں۔۔۔ویسے میرا نام اشفاق بھی ہے، لمبے لمبے بال ہوتے تھے میرے جوانی میں” اُس نے اپنے سر پر، جسے اُسترے سے صاف کیا گیا تھا، ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ میں نے اُس کا دل رکھنے کو تعریفی انداز میں اُس سے ہاتھ ملایا تو وہ تھوڑا قریب ہوا جیسے کوئی رازداری کی بات بتانے لگا ہو۔ “صاحب، میں نے مر جانا ہے!۔۔۔ پتہ ہے، جب میں مر گیا ناں، تو یہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا، سب کُچھ!” اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور باچھیں اُسی طرح کُھلی جیسے ہنس رہی ہوں۔۔۔ یہ پاگل لوگ ہنسنے اور رونےکی، یا یوں کہوں کہ خوشی اور غمی کی حدِ فاصل کو نہیں سمجھتے شائد۔ پھر وہ چُپ ہوگیا، وہ دونوں چُپ ہو گئے۔ پھر دیر تک خاموشی طاری رہی۔ اشفاق احاطے میں جھاڑو کرنے لگ گیا اور میں کافی دیر تک زندان کی چوکھٹ سے لگ کے آسمان کے اُس ٹُکڑے کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہاجو کہ یہاں سے صرف مُجھے نظر آرہا تھا۔ ایک بار پھر وہ قیدی پَیروں پہ بیٹھا تیزی سے آنکھیں جھپکتا اور عجیب بے سروہا باتیں کئے جارہا تھا۔ یقین مانو کہ مُجھے پہلی بار مجرموں کی حالت پہ بھی بے طرح رحم آیا۔ مجرم بھی ان میں نجانے کون کون ہے! تمہارے سر کی قسم، اب آکے پتہ چلا ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف کے نام پر کتنے بڑے بڑے مذاق اور ستن ظریفیاں ہو رہی ہیں۔ لفظ “جج” کا مطلب عقلِ کُل بھی ہم دیہاتیوں کے نزدیک ہی ہو سکتا ہے۔
جب میں واپس لوٹا تو میں بے حد دلبرداشتہ تھا۔ میں ان لوگوں کیلئے کچھ نہیں کر سکتا اور میں ان کی تکالیف اس لئے سمجھ سکتا ہوں کہ یہ سب میرے طبقے کے لوگ ہیں۔ غریب لوگ جن کا کوئی سیاسی و معاشی پس منظر ہوتا ہے ناں ہی تشخص! بے مایہ مرنے کیلئے ہی بے مایہ پیدا ہونے والے لوگ۔ سچ پوچھو تو ان کا دردمند اور غمخوار کوئی نہیں ہے! میں جب کبھی سیاستدانوں، پولیس کے انسپکٹر جرنیلوں اور جیلوں کے بڑے جیلروں سے انسانی حقوق پہ منعقدہ کسی سیمینار، کانفرنس یا میٹنگ کے سلسلے میں ملتا ہوں تو ان کے لہجوں میں وہ مٹھاس ہوتی ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ میرے ملک کے وہی باجبروت لوگ ہیں جو ایک عام آدمی کی حیثیت سے تو مجھے اپنے دفتر میں آنا تو درکنار، اپنے سامنے کھڑا دیکھنے کے روادار نہیں ہیں۔ جانِ من! یہ سب منافقت ہے! انہیں کسی پہ رحم نہیں آتا۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ غریب کی زندگی کے، اس نظام کی چکی میں پستے ہر سیاہ و سپید پہلو پر اختیار بھی انہی کو حاصل ہے۔
عزیز از جان! اس معاشرے سے جرم ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں ظلم ختم ہونے والا نہیں ہے۔ ظلم یہاں کا فرمانِ امروز ہے!!!
میرے ارد گرد ہزاروں لوگ اس مقصد کیلئے کام کر رہے ہیں، تندہی سے، خلوص سے لیکن آج میرا ارادہ متزلزل سا کیوں ہو گیا ہے۔۔۔ شائد اس لئے کہ میں اپنے لوگوں کیلئے اتنا کام کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا جتنا میں ان کا درد رکھنے لگا ہوں۔۔۔ لیکن میری شکست کو کوئی میرے مقصد کی شکست نہیں کہہ سکتا۔
خداحافظ،
تمہارا اپنا

Related Articles

Share

About Author

Ibtidah

(0) Readers Comments

Comments are closed.